لاہور (سی ایل نیوز آن لائن) لاہور جم خانہ نے درجنوں ملازمین کو بغیر وجہ بتائے نوکریوں سے نکال باہر کئیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور جم خانہ کے 37 ملازمین کو اچانک نوکری سے نکا دیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ آج صبح خوشی خوشی کام پر آئے تو آگے سے بتایا گیا کہ نوکری ختم ہوچکی ہے گھر واپس جائیں۔ ملازمین نے مزید بتایا کہ نیا ایچ آر مینیجر غریب ملازمین کا قتل عام کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے جس نے آتے ساتھ ہی ملازمین پر چھریاں چلا دی ہیں۔
اچانک نوکری سے نکالے جانے پر ملازمین مشتعل ہوگئے اور ایڈمن آفس کے سامنے دھرنا دے دیا اور شدید نعرے بازی کی۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ اگر انھیں بحال نا کئیا گیا تو وہ خودسوزیوں پر مجبور ہوجائیں گے جسکی پوری ذمہ داری جم خانہ انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف انتظامیہ کا موقف ہے کہ کرونا کی وجہ سے کام ٹھپ ہے اور ہم اتنے ملازمین نہیں سنبھال سکتے۔واضح رہے کہ لاہور جم خانہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو چودہ لاکھ کی ایلیٹ ممبرشپ مفت میں فراہم کی تھی مگر ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے انتظامیہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور جم خانہ ممبرز سے لاکھوں روپے سالانہ ممبرشپ فیس کے علاوہ تقریبات اور دیگر معاملات کے ذریعے بھی کروڑوں روپے کماتا ہے,اور کرونا وبا بھی ختم ہوچکی ہے تو پھر ملازمین کا معاشی قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟
